اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
کلام: بہزاد لکھنوی
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائےمنزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میںاس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے