16 اشعار

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا

Ek bewafa ko pyaar kiya, haaye kya kya

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا

«اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے خوشی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیاخود دل کو بے قرار کیا ہائے کیا کیا

معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہےاس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا

وہ دل کہ جس پہ قیمت کونین تھی نثارنظر نگاہ یار کیا ہائے کیا کیا

خود ہم نے فاش فاش کیا راز عاشقیدامن کو تار تار کیا ہائے کیا کیا

آہیں بھی بار بار بھریں ان کے ہجر میںنالہ بھی بار بار کیا ہائے کیا کیا

مٹنے کا غم نہیں ہے بس اتنا ملال ہیکیوں تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا

ہم نے تو غم کو سینے سے اپنے لگا لیاغم نے ہمیں شکار کیا ہائے کیا کیا

صیاد کی رضا یہ ہم آنسو نہ پی سکےعذر غم بہار کیا ہائے کیا کیا

قسمت نے آہ ہم کو یہ دن بھی دکھا دیئےقسمت پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا

رنگینئ خیال سے کچھ بھی نہ بچ سکاہر شے کو پر بہار کیا ہائے کیا کیا

دل نے بھلا بھلا کے تری بے وفائیاںپھر عہد استوار کیا ہائے کیا کیا

ان کے ستم بھی سہہ کے نہ ان سے کیا گلہکیوں جبر اختیار کیا ہائے کیا کیا

کافر کی چشم ناز پہ کیا دل جگر کا ذکرایمان تک نثار کیا ہائے کیا کیا

کالی گھٹا کے اٹھتے ہی توبہ نہ رہ سکیتوبہ پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا

شام فراق قلب کے داغوں کو گن لیاتاروں کو بھی شمار کیا ہائے کیا کیا

بہزادؔ کی نہ قدر کوئی تم کو ہو سکیتم نے ذلیل و خوار کیا ہائے کیا کیا

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں