8 اشعار

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

Ae jazba-e-dil gar main chahoon har cheez muqabil aa jaye

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

«اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے» بہزاد لکھنوی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی» میں 18 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائےمنزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میںاس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہےاس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینااس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستممیں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پس مشکل آ جائے

اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوںاس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ مرا دل آ جائے

اے برق تجلی کوندھ ذرا کیا مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہےمیں طور نہیں جو جل جاؤں جو چاہے مقابل آ جائے

کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہےمشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں