انتظار حسین کی آواز میں
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
کلام: اعتبارساجد · محفل: ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد) · 2025-12-01
«جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےجو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفرمجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے