6 اشعار

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

Jo khayaal thhey na qayaas thhey wahi log mujh se bichhad gaye

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

«جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےجو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفرمجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گےمری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذیگل آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریک راہ سفر ہوئےجو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے مرا خواب تھےوہ جو روز و شب مرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں