جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
کلام: اعتبارساجد
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئےجو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفرمجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے