انتظار حسین کی آواز میں
مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں
کلام: خواجہ میر درد · محفل: باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد) · 2025-12-11
«مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔
مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیںکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیں
پڑی جس طرف کو نگاہ یاں نظر آ گیا ہے خدا ہی واںیہ ہیں گو کہ آنکھوں کی پتلیاں مرے دل میں جائے بتاں نہیں