مقرر

انتظار حسین

@IntzarH42809

75
پیش کردہ کلام
88
محفلوں میں شرکت
انتظار حسین کی آواز میں

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں

کلام: خواجہ میر درد · محفل: باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد) · 2025-12-11

«مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیںکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیں

پڑی جس طرف کو نگاہ یاں نظر آ گیا ہے خدا ہی واںیہ ہیں گو کہ آنکھوں کی پتلیاں مرے دل میں جائے بتاں نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 مال اٹھا اور دکان خالی کر Mal utha aur dukan khaali kar نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 جو نہیں اس جہاں کو روتے ہیں Jo nahin us jahan ko rote hain نصیر احمد ناصر غزل
  3. 03 زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روز Zindagi hogi meri ai gham-e-dauran ek roz اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  4. 04 دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا Dil jab se dard-e ishq ke qabil nahin raha صفی اورنگ آبادی غزل
  5. 05 کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا Kabhi is makaan se guzar gaya kabhi is makaan se guzar gaya عرش ملسیانی غزل
  6. 06 اینویں آندے جاندے لنگ گئی Ainvain aande jaande lang gayi پنجابی شعرا
  7. 07 آج سوچا تو آنسو بھر آئے Aaj socha to aansu bhar aaye کیفی اعظمی آواز میں دستیاب
  8. 08 کام یہی ہے شام سویرے Kaam yahi hai sham savere کیف بھوپالی آواز میں دستیاب