تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے
کلام: خواجہ میر درد
تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلےیوں ہی خدا جو چاہے تو بندے کی کیا چلے
کس کی یہ موج حسن ہوئی جلوہ گر کہ یوںدریا میں جو حباب تھے آنکھیں چھپا چلے
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلےیوں ہی خدا جو چاہے تو بندے کی کیا چلے
کس کی یہ موج حسن ہوئی جلوہ گر کہ یوںدریا میں جو حباب تھے آنکھیں چھپا چلے
مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیںکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیں
پڑی جس طرف کو نگاہ یاں نظر آ گیا ہے خدا ہی واںیہ ہیں گو کہ آنکھوں کی پتلیاں مرے دل میں جائے بتاں نہیں