7 اشعار

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں

Mujhe dar se apne tu taale hai yeh bata mujhe to kahaaN nahin

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں

«مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیںکوئی اور بھی ہے ترے سوا تو اگر نہیں تو جہاں نہیں

پڑی جس طرف کو نگاہ یاں نظر آ گیا ہے خدا ہی واںیہ ہیں گو کہ آنکھوں کی پتلیاں مرے دل میں جائے بتاں نہیں

مرے دل کے شیشے کو بے وفا تو نے ٹکڑے ٹکڑے ہی کر دیامرے پاس تو وہی ایک تھا یاں دکان شیشہ گراں نہیں

مجھے رات ساری ہی تیرے ہاں کٹے کیوں کے روتے نہ شمع ساںکہ ہو سکے ہے کچھ اب بیاں نہ یہ بات ہے کہ زباں نہیں

کوئی سمجھے کیوں کے یہ مدعا کہ پہیلی سا ہے یہ ماجراکہا میں تجھے نہیں چاہ کیا لگا کہنے مجھ سے کہ ہاں نہیں

نہ ملا ہمیں کوئی نکتہ داں یہ بپت سنا دیں بھلا کہاںنہ ہوا سبھوں پہ وہی عیاں جو کسو سے یاں تو نہاں نہیں

تجھے درد کیوں کہ سناؤں میں نہ خدا کسی کو دکھائے یہجو کچھ اپنے جی پہ گزرتی ہے کہوں کیا کہ اس کا بیاں نہیں

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں