مقرر

انتظار حسین

@IntzarH42809

75
پیش کردہ کلام
88
محفلوں میں شرکت
انتظار حسین کی آواز میں

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25

«یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہےمجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالمچمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 مال اٹھا اور دکان خالی کر Mal utha aur dukan khaali kar نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 جو نہیں اس جہاں کو روتے ہیں Jo nahin us jahan ko rote hain نصیر احمد ناصر غزل
  3. 03 زندگی ہوگی مری اے غم دوراں اک روز Zindagi hogi meri ai gham-e-dauran ek roz اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  4. 04 دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا Dil jab se dard-e ishq ke qabil nahin raha صفی اورنگ آبادی غزل
  5. 05 کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا Kabhi is makaan se guzar gaya kabhi is makaan se guzar gaya عرش ملسیانی غزل
  6. 06 اینویں آندے جاندے لنگ گئی Ainvain aande jaande lang gayi پنجابی شعرا
  7. 07 آج سوچا تو آنسو بھر آئے Aaj socha to aansu bhar aaye کیفی اعظمی آواز میں دستیاب
  8. 08 کام یہی ہے شام سویرے Kaam yahi hai sham savere کیف بھوپالی آواز میں دستیاب