انتظار حسین کی آواز میں
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہےمجھے رونے کی بیماری نہیں ہے
نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالمچمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے