6 اشعار

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

Yeh aansoo be-sabab jari nahin hai

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

«یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہےمجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالمچمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کاسمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے

غزل ہی گنگنانے دو کہ مجھ کومزاج تلخ گفتاری نہیں ہے

چمن میں کیوں چلوں کانٹوں سے بچ کریہ آئین وفاداری نہیں ہے

وہ آئیں قتل کو جس روز چاہیںیہاں کس روز تیاری نہیں ہے

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں