تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے
کلام: کلیم عاجز
تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہےجو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے
پئے بغیر کہو تو یہ تشنہ کام کہےوہ راز مے جو صراحی کہے نہ جام کہے
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہےجو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے
پئے بغیر کہو تو یہ تشنہ کام کہےوہ راز مے جو صراحی کہے نہ جام کہے
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہےمجھے رونے کی بیماری نہیں ہے
نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالمچمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے