پرشانت کی آواز میں
کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیں
کلام: خورشیدرضوی · محفل: غرورِ زُہد سے رنجِ گُناہ بہتر تھا خورشید رضوی · 2026-11-02
کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیںکسی کا ذکر تو کیا گھر میں آئنہ بھی نہیں
رہے خموش تو ٹوٹا نہ رشتۂ امیدپکارتے تو خرابوں میں کوئی تھا بھی نہیں