مقرر

پرشانت

@Kaku1701

16
پیش کردہ کلام
17
محفلوں میں شرکت
پرشانت کی آواز میں

کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیں

کلام: خورشیدرضوی · محفل: غرورِ زُہد سے رنجِ گُناہ بہتر تھا خورشید رضوی · 2026-11-02

کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیںکسی کا ذکر تو کیا گھر میں آئنہ بھی نہیں

رہے خموش تو ٹوٹا نہ رشتۂ امیدپکارتے تو خرابوں میں کوئی تھا بھی نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا Poochhte kya ho tera yeh haal kaisa ho gaya صفی اورنگ آبادی غزل
  2. 03 لطف ہی لطف ہے جو کچھ ہے عنایت کے سوا Lutf hi lutf hai jo kuchh hai inaayat ke siwa عرش ملسیانی غزل
  3. 04 بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے Be-gharī hai kahāñ ṭhikānā hai تنویر دانش
  4. 05 اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو Agar tum dil hamara le ke pachhtaye to rehne do مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  5. 06 حسین ایسا تھا وہ کہ پڑتے نظر گیا دل Haseen aisa tha woh ke padte nazar gaya dil اسماعیل راز
  6. 07 پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی Phir mile hum un se phir yaari barhi مبارک عظیم آبادی
  7. 08 دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے Dil ko gham se hazar na ho jaaye ناشاد کانپوری
  8. 09 تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے Tum apne ko khud apne hi jalwon mein chhupa ke کامل شطاری آواز میں دستیاب