مقرر

پرشانت

@Kaku1701

16
پیش کردہ کلام
17
محفلوں میں شرکت
پرشانت کی آواز میں

پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا

کلام: صفی اورنگ آبادی · محفل: رشک رقیب ہو کہ غم دورِحبیب صفی اورنگ آبادی · 2026-11-03

پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیاتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیا

عاشقی میں وہم بڑھتے بڑھتے سودا ہو گیاقطرہ قطرہ جمع ہوتے ہوتے دریا ہو گیا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 02 کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیں Kahaan hoon main ke mera koi aashna bhi nahin خورشیدرضوی غزل
  2. 03 لطف ہی لطف ہے جو کچھ ہے عنایت کے سوا Lutf hi lutf hai jo kuchh hai inaayat ke siwa عرش ملسیانی غزل
  3. 04 بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے Be-gharī hai kahāñ ṭhikānā hai تنویر دانش
  4. 05 اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو Agar tum dil hamara le ke pachhtaye to rehne do مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  5. 06 حسین ایسا تھا وہ کہ پڑتے نظر گیا دل Haseen aisa tha woh ke padte nazar gaya dil اسماعیل راز
  6. 07 پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی Phir mile hum un se phir yaari barhi مبارک عظیم آبادی
  7. 08 دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے Dil ko gham se hazar na ho jaaye ناشاد کانپوری
  8. 09 تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے Tum apne ko khud apne hi jalwon mein chhupa ke کامل شطاری آواز میں دستیاب