غزل 10 اشعار

کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیں

Kahaan hoon main ke mera koi aashna bhi nahin

کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیںکسی کا ذکر تو کیا گھر میں آئنہ بھی نہیں

رہے خموش تو ٹوٹا نہ رشتۂ امیدپکارتے تو خرابوں میں کوئی تھا بھی نہیں

تری صدا پہ تو صدیاں بھی لوٹ آتی ہیںمجھے بلا میں کچھ ایسا شکستہ پا بھی نہیں

یہ اور بات کہ نقش قدم دکھائی نہ دیںمگر وہ عرصۂ دل سے ابھی گیا بھی نہیں

اس اعتراف سے رس گھل رہا ہے کانوں میںوہ اعتراف جو اس نے ابھی کیا بھی نہیں

جس ایک چیز سے تیرا فراق آساں ہےوہ ایک چیز تری یاد کے سوا بھی نہیں

مرا بھرم ہیں تغافل شعاریاں تیریتو پوچھ لے تو مرا کوئی مدعا بھی نہیں

مصالحت بھی نہیں ہے سرشت میں اپنیمگر کسی سے تصادم کا حوصلہ بھی نہیں

نہ جانے کب نہ رہیں ہم ہمیں غنیمت جانحیات و موت میں کچھ ایسا فاصلہ بھی نہیں

مآل کار قناعت ہے سو ابھی سے سہیوگرنہ طول تمنا کی انتہا بھی نہیں

— خورشیدرضوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں