پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا
کلام: صفی اورنگ آبادی
پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیاتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیا
عاشقی میں وہم بڑھتے بڑھتے سودا ہو گیاقطرہ قطرہ جمع ہوتے ہوتے دریا ہو گیا
رشک رقیب ہو کہ غم دورِحبیب صفی اورنگ آبادی
مہمان شاعر: صفی اورنگ آبادی
پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیاتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیا
عاشقی میں وہم بڑھتے بڑھتے سودا ہو گیاقطرہ قطرہ جمع ہوتے ہوتے دریا ہو گیا