غزل 12 اشعار

پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا

Poochhte kya ho tera yeh haal kaisa ho gaya

پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیاتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیا

عاشقی میں وہم بڑھتے بڑھتے سودا ہو گیاقطرہ قطرہ جمع ہوتے ہوتے دریا ہو گیا

وہ سراپا ناز ہے مجھ سے برا تو کیا کروںچار نے اچھا کہا جس کو وہ اچھا ہو گیا

عاشقی میں نام اگر درکار ہے بد نام ہودیکھ سب کچھ ہو گیا جب قیس رسوا ہو گیا

کچھ ہو لیکن اب مرا دل تم سے پھر سکتا نہیںیہ تو جس کا ہو گیا کم بخت اس کا ہو گیا

اپنے پہلو میں بٹھایا آپ نے اغیار کودیکھیے بیٹھے بٹھائے کا یہ جھگڑا ہو گیا

لے لیا یاد مژہ نے مجھ کو سیل اشک سےڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہو گیا

داغ ہائے ہجر میں بھی دل میں ہیں خار شوق بھیباغ کا باغ اور یہ صحرا کا صحرا ہو گیا

لے کے دل الزام دیتے ہو غنیمت ہے یہیمال کا مول آ گیا ادلے کا بدلا ہو گیا

دل کی گھبراہٹ نسیم صبح دم سے کم ہوئیوہ نہ آئے غیب سے سامان پیدا ہو گیا

کیا یہی ہے شرم تیرے بھولے پن کے میں نثارمنہ پہ دونوں ہاتھ رکھ لینے سے پردا ہو گیا

میری ہر اک بات قانون محبت ہے مگراے صفیؔ میں شاعری کرنے سے جھوٹا ہو گیا

— صفی اورنگ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں