سید جینٹلمین کی آواز میں
دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں
کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05
«دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔
دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیںپھر وہی سایہ لگا ہو نہ مرے سات کہیں
اس لیے بھی تجھے ملتا ہوں میں اک اک کر کےروند ڈالے نہ تجھے بھی مری بہتات کہیں