دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں
کلام: سعید شارق
دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیںپھر وہی سایہ لگا ہو نہ مرے سات کہیں
اس لیے بھی تجھے ملتا ہوں میں اک اک کر کےروند ڈالے نہ تجھے بھی مری بہتات کہیں
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیںپھر وہی سایہ لگا ہو نہ مرے سات کہیں
اس لیے بھی تجھے ملتا ہوں میں اک اک کر کےروند ڈالے نہ تجھے بھی مری بہتات کہیں
خاک ہوتی ہوئی لہروں کی ہم آغوشی میںڈوبتا جاتا ہوں دریائے فراموشی میں
کبھی سناٹے کی تصویر کبھی چاپ کا عکسکتنے منظر نظر آئے ہمہ تن گوشی میں