5 اشعار

دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں

Din guzarta hai kahin shaam kahin raat kahin

دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں

«دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

دن گزرتا ہے کہیں شام کہیں رات کہیںپھر وہی سایہ لگا ہو نہ مرے سات کہیں

اس لیے بھی تجھے ملتا ہوں میں اک اک کر کےروند ڈالے نہ تجھے بھی مری بہتات کہیں

فاصلہ بڑھتا رہا بڑھتا رہا آخر کارمیں کہیں رہ گیا اور رہ گئے وہ ہات کہیں

پٹیاں باندھ کے رکھتا ہوں کہ ڈر لگتا ہےکوئی سن ہی نہ لے زخموں کے سوالات کہیں

جمع ہوتا رہا ملبہ مرے اندر شارقؔاور سیلاب نے ڈھائے تھے مکانات کہیں

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں