سید جینٹلمین کی آواز میں
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی
کلام: کلیم عاجز · محفل: شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز) · 2025-11-25
«ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھیلینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بہت تھی
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھیمجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی