9 اشعار

ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی

Har Chand Gham-o-Dard Ki Qeemat Bhi Bahut Thi

ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی

«ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی» کلیم عاجز کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)» میں 25 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھیلینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بہت تھی

ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھیمجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی

گو ترک تعلق میں سہولت بھی بہت تھیلیکن نہ ہوا ہم سے کہ غیرت بھی بہت تھی

اس بت کے ستم سہہ کے دکھا ہی دیا ہم نےگو اپنی طبیعت میں بغاوت بھی بہت تھی

واقف ہی نہ تھا رمز محبت سے وہ ورنہدل کے لیے تھوڑی سی عنایت ہی بہت تھی

یوں ہی نہیں مشہور زمانہ مرا قاتلاس شخص کو اس فن میں مہارت بھی بہت تھی

کیا دور غزل تھا کہ لہو دل میں بہت تھااور دل کو لہو کرنے کے فرصت بھی بہت تھی

ہر شام سناتے تھے حسینوں کو غزل ہمجب مال بہت تھا تو سخاوت بھی بہت تھی

بلوا کے ہم عاجزؔ کو پشیماں بھی بہت ہیںکیا کیجیے کم بخت کی شہرت بھی بہت تھی

— کلیم عاجز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں