مری مستی کے افسانے رہیں گے
کلام: کلیم عاجز
مری مستی کے افسانے رہیں گےجہاں گردش میں پیمانے رہیں گے
نکالے جائیں گے اہل محبتاب اس محفل میں بیگانے رہیں گے
شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا(کلیم عاجز)
مہمان شاعر: کلیم عاجز
مری مستی کے افسانے رہیں گےجہاں گردش میں پیمانے رہیں گے
نکالے جائیں گے اہل محبتاب اس محفل میں بیگانے رہیں گے
کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہےہنستا ہے تو ہنستے رہتا ہے روتا ہے تو روتے جاتا ہے
نغموں کی ہر اک جا شہرت ہے نالوں کا تمام افسانہ ہےجس باغ میں ہم جا پہنچے ہیں پھولوں نے ہمیں پہچانا ہے
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھیلینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بہت تھی
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھیمجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی