مقرر

سید جینٹلمین

@SYED32177826624

124
پیش کردہ کلام
96
محفلوں میں شرکت
سید جینٹلمین کی آواز میں

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26

«جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہےشبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے

جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہےآشفتہ سری ہے مری آشفتہ سری ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تیری محفل مری شرکت نہیں دیکھی جاتی Teri Mehfil Meri Shirkat Nahin Dekhi Jati اسماعیل راز
  2. 02 کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے Kyun kiya karte hain aahein koi hum se poochhe مبارک عظیم آبادی
  3. 03 کوئی کیوں بے وفا ہے کیا کہئے Koi kyoon be-wafa hai kya kahiye ناشاد کانپوری
  4. 04 دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے Dil mein dhadkan hai na aankhon mein nazar baqi hai کامل شطاری آواز میں دستیاب
  5. 05 سادہ کاغذ پہ کوئی نام کبھی لکھ لینا! Saada kaghaz pe koi naam kabhi likh lena! باقر مہدی آواز میں دستیاب
  6. 06 مجھے ڈھائے چلا جا مجھ کو بنائے چلا جا Mujhe dhaaye chala ja mujh ko banaye chala ja شاہین عباس آواز میں دستیاب
  7. 07 نئی زمین نیا آسماں تلاش کرو Nai zameen naya aasman talash karo اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  8. 08 اپنی دھن میں بہتے ہوئے دریاؤں کو زخمایا ہے Apni dhun mein behte hue daryao'on ko zakhmaya hai راکب مختار آواز میں دستیاب