سید جینٹلمین کی آواز میں
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26
«جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہےشبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے
جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہےآشفتہ سری ہے مری آشفتہ سری ہے