7 اشعار

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

Jab Koi Kali Sehn-e-Gulistaan Mein Khili Hai

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

«جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہےشبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے

جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہےآشفتہ سری ہے مری آشفتہ سری ہے

اپنی تو اجالوں کو ترستی ہیں نگاہیںسورج کہاں نکلا ہے کہاں صبح ہوئی ہے

بچھڑی ہوئی راہوں سے جو گزرے ہیں کبھی ہمہر گام پہ کھوئی ہوئی اک یاد ملی ہے

اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوریدو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے

ہنسنے پہ نہ مجبور کرو لوگ ہنسیں گےحالات کی تفسیر تو چہرے پہ لکھی ہے

مل جائیں کہیں وہ بھی تو ان کو بھی سنائیںجالبؔ یہ غزل جن کے لیے ہم نے کہی ہے

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں