جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
کلام: حبیب جالب
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہےشبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے
جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہےآشفتہ سری ہے مری آشفتہ سری ہے
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہےشبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے
جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہےآشفتہ سری ہے مری آشفتہ سری ہے
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھاتجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا
چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلےہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا