مقرر · کو ہوسٹ

ثنا سوئٹ

@Sana____Sweet

126
پیش کردہ کلام
97
محفلوں میں شرکت
ثنا سوئٹ کی آواز میں

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

کلام: آرزو لکھنوی · محفل: پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی · 2026-01-06

«بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دوجس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیںمہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تنہا Tanha ضیاء جالندھری نظم
  2. 02 کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے Kaifiyat kya thi yahan aalam-e-gham se pahle اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  3. 03 وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے Wohi hota hai jo mahboob ko manzoor hota hai صفی اورنگ آبادی غزل
  4. 04 وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے Woh mujhe khaak se baahar nahin jaane dete خورشیدرضوی غزل
  5. 05 زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا Zakhm-e-dil bhi dikha ke dekh liya عرش ملسیانی غزل
  6. 06 سر پہ رکھوں تو کبھی سُرما بناوں مٹی Sar pe rakhun to kabhi surma banaun mitti تنویر دانش
  7. 07 علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا Ilaj-e-dard-e-dil tum se maseeha ho nahin sakta مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  8. 08 پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے PaDi hai raat koi gham shanaas bhi nahin hai اسماعیل راز