5 اشعار

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

Bhoole ban kar haal na poocho bahte hain ashk to bahne do

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

«بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دوجس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیںمہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو

روح نکل کر باغ جہاں سے باغ جناں میں جا پہنچےچہرے پہ اپنے میری نگاہیں اتنی دیر تو رہنے دو

خندۂ گل بلبل میں ہوگا گل میں نغمہ بلبل کاقصہ ایک زبانیں دو ہیں آپ کہو یا کہنے دو

اتنا جنون شوق دیا کیوں خوف جو تھا رسوائی کابات کرو خود قابل شکوہ الٹے مجھ کو رہنے دو

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں