بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
کلام: آرزو لکھنوی
بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دوجس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو
رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پرانی ہیںمہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو