مقرر · کو ہوسٹ

ثنا سوئٹ

@Sana____Sweet

126
پیش کردہ کلام
97
محفلوں میں شرکت
ثنا سوئٹ کی آواز میں

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

کلام: افتخارعارف · محفل: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف) · 2025-11-30

«دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہوکوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولےمرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تنہا Tanha ضیاء جالندھری نظم
  2. 02 کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے Kaifiyat kya thi yahan aalam-e-gham se pahle اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  3. 03 وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے Wohi hota hai jo mahboob ko manzoor hota hai صفی اورنگ آبادی غزل
  4. 04 وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے Woh mujhe khaak se baahar nahin jaane dete خورشیدرضوی غزل
  5. 05 زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا Zakhm-e-dil bhi dikha ke dekh liya عرش ملسیانی غزل
  6. 06 سر پہ رکھوں تو کبھی سُرما بناوں مٹی Sar pe rakhun to kabhi surma banaun mitti تنویر دانش
  7. 07 علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا Ilaj-e-dard-e-dil tum se maseeha ho nahin sakta مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  8. 08 پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے PaDi hai raat koi gham shanaas bhi nahin hai اسماعیل راز