7 اشعار

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

Dayar-e-Noor Mein Teera Shaboon Ka Saathi Ho

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

«دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہوکوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولےمرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہےمیں گر پڑوں تو مری پستیوں کا ساتھی ہو

وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرےگلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میںمیں چپ رہوں تو مرے تیوروں کا ساتھی ہو

میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائےوہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو

وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سےمرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں