خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
کلام: افتخارعارف
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوںشام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوںشام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہوکوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو
میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولےمرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو
میری زندگی میں بس اک کتاب ہے، اک چراغ ہےایک خواب ہے اور تم ہو
یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں میں چاہتا تھاتمھارے ساتھ بسر کروں