ایمان کی آواز میں
دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھے
کلام: مجروح سلطانپوری · محفل: میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری · 2026-01-31
«دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔
دست پر خوں کو کف دست نگاراں سمجھےقتل گہہ تھی جسے ہم محفل یاراں سمجھے
کچھ بھی دامن میں نہیں خار ملامت کے سوااے جنوں ہم بھی کسے کوئے بہاراں سمجھے