ایمان کی آواز میں
ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک
کلام: اختر انصاری اکبر آبادی · محفل: آج پر نور گذر گاہ زماں ہے کہ نہیں اختر انصاری اکبر آبادی · 2026-11-04
ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تکمجھ کو حیرت رہی انجمن میں تری کیوں ہیں خاموش اہل زباں آج تک
عشق محو غم زندگی ہو گیا حسن مدہوش عشوہ طرازی رہااہل دل ہوش میں آ چکے ہیں مگر ہے وہی عالم دلبراں آج تک