ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹا
کلام: نصیر احمد ناصر
ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹاہونے لگتا ہے ہر گماں اُلٹا
کھینچتی ہے ہوا کنارے کوپھڑپھڑاتا ہے بادباں اُلٹا
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر
مہمان شاعر: نصیر احمد ناصر
ہے تیقن میں بھی زیاں اُلٹاہونے لگتا ہے ہر گماں اُلٹا
کھینچتی ہے ہوا کنارے کوپھڑپھڑاتا ہے بادباں اُلٹا
لمحے شمارنے سے رہائی مجھے ملیجب سے ترے بدن کی اکائی مجھے ملی
میں جا رہا تھا اپنے خیالوں میں گم کہیںرستے میں اونگھتی ہوئی کھائی مجھے ملی
بَہ رہا ہے زمیں کے دھارے پرایک دریا کہ ہے کنارے پر
جو تناور تھا سب درختوں میںٹکڑے ٹکڑے پڑا ہے آرے پر