نور مائیر کی آواز میں
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
کلام: محمد رفیع سودا · محفل: جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا · 2026-02-01
«عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیںدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں
قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیںکیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں