بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو
کلام: محمد رفیع سودا
بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہوہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہو
روا ہے کہہ تو بھلا اے سپہر نا انصافریائے زہد چھپے راز عشق رسوا ہو
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا
مہمان شاعر: محمد رفیع سودا
بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہوہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہو
روا ہے کہہ تو بھلا اے سپہر نا انصافریائے زہد چھپے راز عشق رسوا ہو
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیںدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں
قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیںکیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں
شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گےتمہیں تمہارے ہی نیم خوابوں نے گر جگایا تو کیا کرو گے
پلک پلک سے چھلک رہی ہے مری اُداسی لہو کی صورتمگر اداسی کی بارشوں نے تمہیں رلایا تو کیا کرو گے