8 اشعار

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں

Aashiq ki bhi katti hain kya khoob tarah raatein

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں

«عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں» محمد رفیع سودا کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیںدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں

قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیںکیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں

اوروں سے چھٹے دل بر دل دار ہووے میرابرحق ہیں اگر پیرو کچھ تم میں کراماتیں

کل لڑ گئیں کوچے میں آنکھوں سے مری انکھیاںکچھ زور ہی آپس میں دو دو ہوئیں سمگھاتیں

کشمیر سی جاگہ میں نا شکر نہ رہ زاہدجنت میں تو اے گیدی مارے ہے یہ کیوں لاتیں

اس عشق کے کوچے میں زاہد تو سنبھل چلناکچھ پیش نہ جاویں گی یاں تیری مناجاتیں

اس روز میاں مل کر نظروں کو چراتے تھےتجھ یاد میں ہی ساجن کرتے ہیں مداراتیں

سوداؔ کو اگر پوچھو احوال ہے یہ اس کادو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں

— محمد رفیع سودا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں