نور مائیر کی آواز میں
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
کلام: آرزو لکھنوی · محفل: پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی · 2026-01-06
«اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہےسیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے
جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہےناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے