کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
کلام: آرزو لکھنوی
کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتاموج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا
ہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتادل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتاموج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا
ہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتادل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہےسیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے
جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہےناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے