نور مائیر کی آواز میں
گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
کلام: ندا فاضلی · محفل: ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی · 2026-02-02
«گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔
گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گےہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گے
اتنا آساں نہیں لفظوں پہ بھروسا کرناگھر کی دہلیز پکارے گی جدھر جاؤ گے