آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
کلام: ندا فاضلی
آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیابند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا
کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سےرنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا
ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی
مہمان شاعر: ندا فاضلی
آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیابند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا
کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سےرنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا
گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گےہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گے
اتنا آساں نہیں لفظوں پہ بھروسا کرناگھر کی دہلیز پکارے گی جدھر جاؤ گے