5 اشعار

گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے

Ghar se nikle to ho socha bhi kidhar jaoge

گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے

«گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گےہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گے

اتنا آساں نہیں لفظوں پہ بھروسا کرناگھر کی دہلیز پکارے گی جدھر جاؤ گے

شام ہوتے ہی سمٹ جائیں گے سارے رستےبہتے دریا سے جہاں ہو گے ٹھہر جاؤ گے

ہر نئے شہر میں کچھ راتیں کڑی ہوتی ہیںچھت سے دیواریں جدا ہوں گی تو ڈر جاؤ گے

پہلے ہر چیز نظر آئے گی بے معنی سیاور پھر اپنی ہی نظروں سے اتر جاؤ گے

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں