نور مائیر کی آواز میں
خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
کلام: باصر سلطان کاظمی · محفل: گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی) · 2025-12-29
«خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔
خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ باتیہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات
رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میںدن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات