خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
کلام: باصر سلطان کاظمی
خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ باتیہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات
رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میںدن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات
گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)
مہمان شاعر: باصر سلطان کاظمی
خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ باتیہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات
رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میںدن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات