6 اشعار

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات

Khat mein kya kya likhoon yaad aati hai har baat pe baat

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات

«خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات» باصر سلطان کاظمی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی (باصر سلطان کاظمی)» میں 29 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ باتیہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات

رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میںدن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات

اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا برد ہوئےاب کیا کرتے ہیں ہم صورت حالات پہ بات

لوگ جب ملتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کروجیسے رکھی ہوئی ہوتی ہو مرے ہات پہ بات

مل نہ سکنے کے بہانے انہیں آتے ہیں بہتڈھونڈ لیتے ہیں کوئی ہم بھی ملاقات پہ بات

دوسروں کو بھی مزا سننے میں آئے باصرؔاپنے آنسو کی نہیں کیجئے برسات پہ بات

— باصر سلطان کاظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں