مقرر · کو ہوسٹ

امل خان

@bakhtawarkhan_0

135
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
امل خان کی آواز میں

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12

«آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیںلیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں

آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگراس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں Kitab-e-zeest mein chahat ke baab the hi nahin تنویر دانش
  2. 02 یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے Yeh munasib toh nahin tha ke tamasha karte زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 وفاداری کی صورت میں جفا کاری کا نقشا تو Wafadari ki soorat mein jafa kaari ka naqsha tu مضطر خیرآبادی
  4. 04 طعنے Ta'ne اسماعیل راز
  5. 05 یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے Yahan kya hai wahan kya hai idhar kya hai udhar kya hai مبارک عظیم آبادی
  6. 06 خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری Khusha naseeb ke hai dil mein aarzoo teri ناشاد کانپوری
  7. 07 ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے Hum vasl mein aise khoye gaye furqat ka zamana bhool gaye کامل شطاری آواز میں دستیاب
  8. 08 گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں Gar tujhe rooh-e-rawaan rahat-e-jaan kehte hain رند لکھنوی