آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
کلام: جواد شیخ
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیںلیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگراس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیںلیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگراس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
میں نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہولیکن اب ٹھان چکے ہو تو چلو اچھا ہو
ہم تو یہ بھی نہیں کہتے کہ ہمیں کیا مطلباُس کو ہوتا ہے کوئی غم تو بھلے ہوتا ہو