8 اشعار

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

Aap jaison ke liye is mein rakha kuch bhi nahin

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں

«آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیںلیکن ایسا تو نہ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں

آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے مگراس تعلق میں اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں

میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتایا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں

کیسے جانا ہے کہاں جانا ہے کیوں جانا ہےہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں

ہائے اس شہر کی رونق کے میں صدقے جاؤںایسی بھرپور ہے جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں

پھر کوئی تازہ سخن دل میں جگہ کرتا ہےجب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں

اب میں کیا اپنی محبت کا بھرم بھی نہ رکھوںمان لیتا ہوں کہ اس شخص میں تھا کچھ بھی نہیں

میں نے دنیا سے الگ رہ کے بھی دیکھا جوادؔایسی منہ زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں