امل خان کی آواز میں
قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے
کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12
«قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنےبات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہ بنے
امتحاں حال میں ہم لائے ہیں اک ایسی کتابممتحن پوچھے یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے